راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم 21 ستمبر سے شروع ہوگی جس کے دوران صوبے کے 13 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر 1 کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کے لیے ہزاروں تربیت یافتہ پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گے جبکہ راولپنڈی میں تقریباً 8 ہزار پولیو ورکرز مہم میں حصہ لیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عظمیٰ کاردار نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پولیو وائرس کے دوبارہ داخلے کا خطرہ بدستور موجود ہے، اس لئے ہر مہم کے دوران ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔ جولائی میں راولپنڈی میں پایا جانے والا پولیو وائرس افغانستان سے آیا تھا تاہم پنجاب میں وائرس کی مقامی منتقلی کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔پنجاب میں پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات جاری ہیں تاہم آبادی کی اندرونِ و بیرونِ صوبہ نقل و حرکت اور بیرونِ ملک سے وائرس کی آمد کے خطرے کے پیش نظر کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔
